70 years of Failure of Dominant Narratives

اگر آپ ملک کی ترقی چاہتے ہیں تو اس 70 سالہ ناکام بیانیہ کی اندھا دھند تقلید چھوڑ دیں، جس کے چند بڑے نکات یہ ہیں:
1. پاکستان کی زبوں حالی کی بنیاد مالی کرپشن ہے- جی نہیں، پاکستان کی زبوں حالی کی بنیاد مالی نہیں آئینی کرپشن ہے جو کہ اداروں کو تباہ و برباد کر دیتی ہے اور پنپنے نہیں دیتی-
 
2. پاکستان کو صرف ایک سخت گیر ایماندار قیادت چاہیے- جی نہیں اداروں کو چلانے کے لئے اہلیت چاہیے- ادارے مضبوط ہوں گے تو کرپشن کی تطہیر خود کریں گے آئینی تقاضوں کے ساتھ- جبھی وہ پاکستانی جو صبح شام سگنل اور قانون توڑتے ہیں وہ دوسرے ممالک میں جا کر یکایک قانون کی پاسداری کرنے لگتے ہیں-
3- اوپر والا ایماندار ہو تو نیچے والے خود بخود ایماندار ہو جاتے ہیں- جی نہیں نظام تبدیل کرنے کے لئے اہلیت و کومپیٹنس چاہیے، جو کہ KPIs کو کمپیوٹرائزڈ سسٹمز کے زریعے مانیٹر کرے اور تمام فیصلوں اور ان پر عملدرآمد کی مانئٹرنگ کو یقینی بنائے اور ان کے زریعے transparency اور accountability مہیا کرے-
4- تبدیلی کے لئے centralization چاہیے – جی نہیں تبدیلی decentralization اور delegation سے آتی ہے- ہر کام اگر فیڈرل اور صوبائی منسٹریز کو کرنا ہے تو تمام اتھارٹیز اور دیگر اداروں کو تحلیل کر دیں- اگر کوئی اتھارٹی یا ادارہ بنانا ضروری ہے تو اس کو responsibility کے مطابق اتھارٹی دیں اور اس کو اپنے KPIs کا مکلف بنا کر منسٹری کا کنٹرول ختم کر دیں- KPIs نہ پورے ہونے پر فیصلہ گورننگ بورڈ پر چھوڑیں اگر سربراہ اور بورڈ دونوں ناکام ہو جائیں تو دونوں کو سروسز عدالت میں پیش کریں-
ککلکم راع و کلکم را مسئول …..

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *