Happiness and Forgive and Forget Rule

Forgive and forget rule for happiness! 
The question to ask is whether you want to be happy or not!
اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات 
ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے
 
Holding a grudge and protecting it is like carrying stale foul smelling tomatoes for long periods and not throwing them away despite their stench.
وہ اچھا سلوک جو آپ نے دوسروں کے ساتھ کیا اس کا بھولنا اس    حکمت میں پوشیدہ ہے: “نیکی کر دریا میں ڈال”  اور “احسانمند کے شر سے ڈرو”


لوگوں کا رویہ ہمارے رویہ کا پرتو اور عکس ہوتا ہے
اگر آپ کسی کا رویہ اپنے ساتھ تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنا رویہ ان کے ساتھ تبدیل کریں!
Covey’s 1st Habit “Being Proactive”
نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتے- نیکی کا بدلہ نیکی ہے- بدی کا بدلہ بدی ہے- کان کا بدلہ کان ہے اور ناک کا بدلہ ناک ہے- البتہ معاف کرنا زیادہ افضل ہے اور معاف کرنے کے بعد بدی کا بدلہ نیکی سے دینا سب سے زیادہ افضل ہے-

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *