Sociology of Mail Delivery in villages

انٹرنیٹ سے پہلے خطوط کے زمانے کی طرز معاشرت  شہروں میں کیا تھی (امریکہ سے میرے خطوط) ؟ 
نیچے گاؤں کی طرز معاشرت کا بہت بہترین نقشہ ہے
============
گاؤں کے خط، خیریت، بری خبر، ڈاکیہ، معاشرت
از محمود زیدی
دوستو، اپنے گاؤں میں دینو چاچا کے نام سے مشہور  دین محمد صاحب آج اسی برس کے ہوگئے ۔۔۔ 
یہ میرے مسجد کے ان بارہ ساتھیوں میں سے ایک ہیں ۔۔۔ جو ہر روز صبح فجر کے بعد باغ کی سیر کیلئے جاتے ہیں۔۔ باغ کی سیر کے بعد ہم تمام لوگ نزدیکی بنچوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔ اس سے ایک دوسرے کی خیریت بھی معلوم ہوجاتی ہے اور ادھر بریگیڈیئر سلمان رضا صاحب کی حالات حاضرہ اور حامد قدوائی صاحب کی علمی و ادبی گفتگو سننے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔۔۔۔ بیچ بیچ میں شاہد جمیل کے ‘انور مقصودی’ جملے بھی سننے کو ملتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔  بارہ افراد کے اس حلقے میں شاہد جمیل سب سے کم عمر یعنی پینتالیس سال کا ہے اور دین محمد صاحب ماشاءاللہ سب سے عمر رسیدہ ہیں ۔۔۔۔ 
شاہد کی زبانی علم ہوا کہ آج دین محمد صاحب کی سالگرہ کا دن ہے اور ساتھ ہی اس نے حلوہ پوری کے ناشتے اور اس کے بل کی ادائیگی سلمان رضا صاحب کے کھاتے سے ادا کرنے کی خبر بھی سنادی۔۔۔ سلمان رضا صاحب نے مصنوعی خفگی سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے یہ ذمہ داری قبول کرلی۔۔۔۔ 
ہم نزدیکی کمرشل ایریا کے فٹ پاتھ پر رکھی کرسیوں پر جا کے بیٹھ گئے۔۔۔۔۔ ہم سب خوش گپیوں میں مگن تھے کہ مجھے خیال آیا کہ دین محمد صاحب تجربہ کار اور جہاندیدہ شخص ہیں کیوں نہ ان کی زندگی کے تجربات سنے جائیں۔۔۔۔ سب نے میری تجویز سے اتفاق کیا  اور دین محمد صاحب کی جانب دیکھنے لگے ۔۔۔  
دین محمد صاحب جو کہ ایک خاموش طبع شخص ہیں کچھ دیر سوچوں میں گم رہے ۔۔۔ پھر بولے میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں، تین سال کی عمر میں والد کے سایہ سے محروم ہوگیا ۔۔۔۔ والدہ نے پالا پوسا ۔۔۔۔ میں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی جو اس زمانے کے حساب سے اعلیٰ تعلیم سمجھی جاتی تھی۔۔۔ میرے گاؤں کا اسکول پرائمری تک تھا ، چھٹی جماعت میں داخلے کیلئے مجھے  نزدیکی گاؤں میں خالہ کے گھر بھیج دیا گیا۔۔۔۔ اٹھارہ سال کی عمر میں مجھے محکمہ ڈاک میں بطور ڈاکیہ ملازمت مل گئی ۔۔۔۔ اسی سال میری شادی بھی ہوگئی ۔۔۔ والدہ کی خواہش تھی کہ میرا تبادلہ میرے گاؤں میں ہی ہوجائے الله تعالیٰ نے ان کی سن لی اور یوں میں اپنے گاؤں واپس چلا آیا۔۔۔۔ اگلے تین برسوں ميں الله تعالیٰ نے دو بیٹوں سے نواز دیا۔۔۔ والدہ کیلئے پوتے بہت بڑی نعمت تھے وہ ہر وقت ان میں لگی رہتیں ۔۔۔۔۔ 
زندگی بڑی پرسکون گذرنے لگی۔۔۔ اس وقت میرے گاؤں کی کل آبادی مشکل سے دو ہزار کے لگ بھگ ہوگی۔۔۔۔ سارا دن میں بمشکل چار سے پانچ خطوط آتے ۔۔۔ اس چھوٹے سے گاؤں میں یہ پانچ خط وصول کنندہ تک پہچانے میں مجھے صبح سے شام ہوجاتی۔۔۔۔ آپ لوگ شاید حیران ہوں گے مگر جو لوگ دیہاتی زندگی سے واقف ہیں انہیں علم ہے کہ ڈاکیہ خط لے کر جس کے گھر بھی پہنچتا ہے اسے لسی پانی کے بغیر جانے کی اجازت نہیں ملتی۔۔۔۔ اسے خط کھول کر سنانا بھی پڑتا ہے۔۔۔  سارا گھر ایک جگہ بیٹھ کر شوق سے یہ خط سنتا ہے۔۔  بعض مرتبہ تو بڑی بوڑھیوں کو یہ خط دو سے تین بار بھی سنانا پڑجاتا ہے ۔۔۔۔۔ 
میں نے چالیس برس نوکری کی اور پورے چالیس برس یہی معمول رہا۔۔۔۔ لوگ ملازمت کے سلسلے میں باہر جاتے۔۔۔  وہاں سے خطوط بھیجتے ، نوجوان پڑھائی کیلئے جاتے تو ان کے خطوط آتے، لوگ علاج کیلئے شہر جاتے تو وہاں سے ان کی بیماری یا صحتیابی کی اطلاع آتی۔۔۔ خوشی کی خبر پر لوگ مجھے گلے لگ لگ کے میرا منہ میٹھا کراتے، غم کی خبر پر سب سے پہلے میرا ہی کندھا ان کو میسّر ہوتا۔۔۔۔۔ میں پورے گاؤں کا محرم راز تھا۔۔۔ کسی گھر کی کوئی بات ایسی نہ تھی جو مجھ سے چھپی رہتی۔۔۔
گاؤں کا کوئی شخص ایسا نہ تھا جسے میں نہ جانتا ہوں ۔۔۔ لوگ خط سن کر مجھ سے مشورہ کرتے اور پھر مجھ سے ہی جواب لکھواتے ۔۔۔۔۔ہم سب خاموشی کے ساتھ دین محمد صاحب کی یہ عام سی گفتگو سن رہے تھے کہ اچانک وہ کچھ رنجیدہ ہوگئے ۔۔۔۔۔
پھر بولے ایک بار خالہ رشیدہ کے بیٹے صادق کا خط آیا ان دنوں وہ کویت میں ملازمت کررہا تھا۔۔۔۔ میں نے خط تھیلے میں رکھ لیا۔۔۔ میرا ارادہ تھا کہ یہ خط سب سے آخر میں پہنچاؤں گا ایک تو میرا گھر خالہ کے گھر سے نزدیک تھا دوسرے خالہ صادق کے ہر خط کو دو سے تین بار سنتی تھیں۔۔۔۔  
دن کے اختتام پر خالہ کے گھر پہنچ کر خط کھولا تو متن پڑھتے ہی میرا دل دھک سے رہ گیا یہ صادق کے کسی دوست فاروق کا خط تھا جس نے لکھا تھا کہ صادق کو کسی ناکردہ جرم میں گرفتار کرلیا گیا ہے اور ساتھ ہی تسلی بھی دی کہ سفارتخانے والے اس کے کیس کو دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔ انشاءاللہ اسے سزا نہیں ہوگی ۔۔۔۔ میرے اندر اتنی ہمت نہ تھی کہ خالہ کو یہ خط سنا سکوں ۔۔۔ میں نے دل ہی دل میں اس خط کو نہ سنانے کا فیصلہ کیا اور خالہ کو بتانے لگا کہ صادق خیریت سے ہے وہ جلد پیسے بھی بھیجے گا اور کچھ ماہ بعد گھر کا چکر بھی لگائے گا۔۔۔۔۔  خالہ سر جھکائے یہ خط سنتی رہیں ۔۔۔۔ بعد ازاں دعائیں دے کر مجھے جانے کی اجازت دے دی۔۔
میں گھر سے نکل ہی رہا تھا کہ پیچھے سے صادق کے والد نے آواز دی دینو پتر ٹھہر تجھے میں دروازے تک رخصت کردوں میں نے جلدی سے کہا خالو جی اس تکلف کی کیا ضرورت ہے۔۔۔  مگر وہ دروازے سے مجھے پکڑ کر باہر لے آئے اور راز داری سے پوچھنے لگے پتر خیر تو ہے۔۔۔۔ آج خط سناتے وقت تیری حالت غیر تھی۔۔۔ میرے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہ تھا کہ اصل خط خالو کو سنادیا جائے ۔۔۔ خالو نے بہت خاموشی سے فاروق کا خط سنا پھر بولے پتر تو نے اچھا کیا رشیدہ کو اس بات کا پتہ نہیں لگنے دیا۔۔۔  جانے وہ اس کو برداشت بھی کر پاتی یا نہیں۔۔۔۔۔
پھر بولے پتر کل ڈاکخانہ میں بیٹھ کر سوچ بچار کرتے ہیں ۔۔۔ اگلے روز وہ صبح ہی آن پہنچے میں انہیں اپنے افسر کے پاس لے گیا اور ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔۔۔۔ باہم مشورے سے طے پایا کہ اس خط کا جواب لکھ کر فاروق سے معلوم کیا جائے کہ اب کیا صورتحال ہے اور اگر فون نمبر ہو تو وہ بھی مانگ لیا جائے ۔۔۔ 
یہ غالباً سن ستر یا اکہتر تھا اس زمانے میں گاؤں تو دور کی بات ہے شہروں میں بھی فون کی سہولت آسانی سے دستیاب نہ تھی۔۔۔۔۔
خیر ہم نے خط لکھ کر بھیجا مگر ہمارا خط وہاں پہنچنے سے پہلے ہی فاروق کا ایک اور خط آگیا کہ صادق کو سات برس کی سزا سنا دی گئی ہے۔۔۔۔ بؤرھے باپ پر یہ خبر بجلی بن کر گری۔۔۔۔۔وہ دیر تک روتے رہے پھر مجھ سے بولے دینو پتر مجھ پر ایک احسان کردے ۔۔۔۔۔ خالہ کو صادق کی سزا کا پتہ نہیں لگنے دینا۔۔۔۔ تو بس اسی طرح اس کے خطوط پڑھتے رہنا اور جیل سے آنے والے تمام خطوط ہم یہیں دفتر میں پڑھ لیا کریں گے۔۔۔
دن اسی طرح گزرتے رہے میں ہر دس پندرہ دن کے بعد خط لے کر خالہ کے پاس جاتا انہیں خط سناتا اور رخصت ہوجاتا۔۔۔۔ قریب چار برس گزرے ہوں گے صادق کا خط آیا کہ اس کی بقیہ سزا معاف ہوگئی ہے اور دس دن بعد وہ پاکستان آرہا ہے۔۔۔۔ خالو خط سن کر رونے لگے۔۔۔ اسی شام ہم نے خالہ کو یہ خط سنایا۔۔۔۔ آج میں نے چار سال بعد سچ بولا تھا۔۔۔ ٹھیک دسویں روز صادق گھر پہنچ گیا۔۔۔۔ اسے رستے میں سب کچھ سمجھا دیا گیا تھا۔۔۔۔ وہ اور خالہ آپس میں لپٹ کر دیر تک روتے رہے۔۔۔۔ اس روز سارے گاؤں کی عورتیں خالہ کے گھر جمع تھیں ۔۔۔۔ جب سب لوگ رخصت ہوگئے تو میں نے بھی اجازت چاہی۔۔۔ اس وقت خالہ نے ایک ایسی بات کہی کہ میں دنگ رہ گیا۔۔۔وہ روتے ہوئے بولیں ۔۔۔ 
پتر انسان ساری دنیا سے اپنا دکھ اپنی تکلیف چھپا سکتا ہے مگر ماں سے کچھ نہیں چھپتا ۔۔۔۔۔ ایک ماں ہے جو سب کچھ جانتی ہے جب تو نے صادق کا پہلا خط سنایا تھا تو میں سمجھ گئی تھی کہ میرا بیٹا کسی مصیبت میں گرفتار ہوچکا ہے۔۔۔۔ تو مہینے میں دوبار آکر اس کا خط سناتا تھا مگر نہ تیرا لہجہ تیرے الفاظ کا ساتھ دیتا تھا نہ میرا دل کسی خیر کی گواہی دیتا تھا۔۔۔
 مجھے یہ بھی یقین تھا کہ میرا صادق زندہ ہے اور ایک روز مجھ سے ضرور ملے گا۔۔۔۔ جس دن تو نے صادق کے آنے کا خط سنایا مجھے یقین ہوگیا کہ چار برس تک جھوٹ بولتے بولتے آج تو نے سچ بول دیا ہے۔۔۔ اور پھر میں نے تجھ سے یہ خط تین بار سنا۔۔۔۔ مجھے یاد آرہا تھا کہ واقعی چار سال کے دوران سنائے گئے تمام جھوٹے خطوط خالہ نے بس ایک بار ہی سنے تھے۔۔۔۔ آپ ساری دنیا سے جھوٹ بول سکتے ہیں، اپنا دکھ چھپا سکتے ہیں مگر ماں کا دل کبھی دھوکا نہیں کھا سکتا۔۔۔۔
دین محمد صاحب یہ کہہ کر خاموش ہوگئے ۔۔۔۔ حلوہ پوری آچکی تھی ہم نے اداس دل کے ساتھ ناشتہ شروع کردیا ۔۔۔۔۔ بلا شبہ ہر شخص کی زندگی میں بہت سے ایسے واقعات ہوتے ہیں جو کریدنے سے سامنے آتے ہیں ۔۔۔۔ دین محمد صاحب نے خالہ رشیدہ کا قصہ سنا کر سب کے دلوں میں ماں کی یاد تازہ کردی تھی۔۔۔۔ الله تعالیٰ تمام ماؤں کو سلامت رکھے اور دین محمد صاحب کی عمر دراز کرے۔۔۔ آمین۔۔۔۔
تحریر : محمود زیدی Mahmood Zaidi
محمود زیدی صاحب کی وال سے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *