Ikram Hyder Naqshbandi Naatia Kalam in Different Languages

میرے دادا کے والد سید اکرام حیدر (1854 – 1942) کی غالباً 1920 کی دہائی کا لکھا ہوا نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں کلام، مختلف زبانوں میں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بزبان عربی

للہ الحمد علی راسنا   ار سلت نبی

من نبی اقبل احکام شرقی غربی

کان امی لقد ا عالم و علم العجبی

قال واللہ لک؟ رحمت احمد ربی

سیدی مرشدی مولائے محمد عربی

مرحبا سرور عالم تو عجب خوش لقبی


 

زبان فارسی

پیچ دل میکند از راز نہایت پردہ دری

قوی آگاہ پریشانی و خستہ جگری

گر شود این کنہ از راز نہاں پردہ دری

ای فدایت در دکنی بدری خوبی میری

سیدے مرشدی مولا ئے محمد عربی

مرحبا سرور عالم تو عجب خوش لقبی

 

زبان مر ہٹی

کہو وی سر لا قومی مرلا آہو مازی پریہ کر

تم چہ واچون ملا دہیری ندہیری کنشن ور

داکہہ وا اپلا مدینہ ملا احمد لوکر

کسٹ اوپنار عطا تو کری کریا مازی وڑ

مازا سنکسٹ تھی دور کرا مازا وڑیل

زانہ کرتیل تھی تو املا دکھ پڑتیل

امہا ورکون دیس اپلی کرپا ہوتیل

مازی گوشٹی کا ہے ملا کام آتیل

سیدی مرشدی مولائے محمدؐ عربی

 

زبان پنجابی

توساں تصویر بنی خلق وچ جب آندی

فضل مولائے تی تقدیر کھلی دنیاں دی

ہوی تجھ نور سے تی روشنی مہتاباں دی

آس وچ حشر وی امت تون تیری دامان دی

سیدی مرشدی مولائے محمدؐ عربی

 

زبان پوربی

برہ نےگہیر لیا جیراکپت ہے تہر تہر

ہائے کیسی بھی ویاکوئی لے جاؤ خبر

ہم تو دیکھیں گے مدینہ کی نگریاجی بھر

مورے بلماں تورے دوارے کہوں بنتی گر گر

سیدی مرشد مولائے محمد عربی

مرحبا سرور عالم تو عجب خوش لقبی

 

زبان میواتی

مورو من گیر و بتو موکو کرم ہیں کیو

ٹینٹوا براہ کا کاٹا مورو دہن لوٹ لیو

واکی سدہ نرھی پھوٹ گیو ہمرو میو

نبی جی اپنے میوات میں بھی ساتھ دیو

سیدی مرشدی مولائے محمدؐ عربی

 

زبان دہقانی

انسان کہاں تک کی ہوتم مہلک تمہاری ہے

سانس  پہیج پاتا ہے کہداوند کاتمے انسان

سرک سے گرب تلک کہاس تمہاری سایات

کہو کب سمجھیں گے ہجور آپ یہ کچی ہے زبان

سیدی مرشدی مولائے محمدؐ عربی

 

زبان ہکلے

ممامین بھی تتاتیرا ننا نام آور ہوت

ررا رکھ لے ہاہا حرمت ببا بے یاور ہوت

کاکا کسنے چچا چاہا ججا جاور ہوں

دررر درکا  گگا گرد اور   ہوں

سیدی مرشدی مولائے محمدؐ عربی

 

زبان بچوں کی

تم سے پریاد ترون تمہی لدادو گے پار

توں ہے میرا تھان داوت تروتم تربار

تم تو اللہ نے امت تا تیا ہے تہروار

تون داتا ہے بھلا تہورتے ایسی تھرکار

سیدی مرشدی مولائے محمد عربیؐ

از سید اکرام حیدر قادری نقشبندی

1920s  Ikram Hyder to Ikram H Collection u7118 DH-24

Proof Reading: By Maulana Sajid Jamil, SIH

Composing: M. Nouman

============

شاعری کی اس قسم کو ریختہ کہتے ہیں. جس میں کبھی ایک مصرع دو بھی زبانوں پر مشتمل ہوتا ہے، کبھی دو مصرع دو زبانوں میں کبھی دو بند زبانوں میں ہوتے ہیں. امیر خسرو کا زحال مسکیں.. اس کی اولین مثال ہے.. اعلی حضرت کی لم یات بھی اس قسم کا شاہکار ہے از حماد رشید صاحب


Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *