Constitutional Corruption vs Financial Corruption

Corruption is breaking of law to gain some financial benefits. Law is under the constitution, so constitution is at a higher pedestal than law. Constitutional violations have a greater negative impact than the financial corruption because constitutional violations destroy the institutions and their relationships, thereby leaving scars that may take decades to heal. The impact of constitutional corruption last for decades and corrupts generations. 
کرپشن قانون توڑنے کو کہتے ہیں- قانون آئین کے تابع ہوتا ہے- سب سے بڑی کرپپشن آئین و قانون کو توڑنا ہے- آئین و قانون کو توڑنے والی کرپشن کو ہمیشہ نظریہ ضرورت یعنی Doctrine (DoN) of Necessity کے تحت ججز اور ڈکٹیٹرز نے تحفظ دیا ہے- پھر خود روتے ہیں کہ کرپشن بڑھ گئی

مالیاتی کرپشن قانون توڑ کر زاتی فائدہ حاصل کرنا ہے جبکہ آئینی کرپشن آئین توڑ کر اپنی جانی فائدہ کیلئے من بپسند ترمیم کرنا ہے- چونکہ قانون آئین کے ماتحت ہے، اس لئے مالیاتی کرپشن سے صرف مالی نقصان ہوتا ہے جبکہ آئینی کرپشن سے ملک کے تمام نظام تلپٹ ہو جاتے ہیں- مثلاً عدالتی نظام، بیوروکریسی نظام، وغیرہ

مالیاتی کرپشن دراصل آئینی کرپشن کی مرہونِ منت ہے- ورنہ ڈکٹیٹرز کے 35 سالہ آئینی کرپٹ حکومتوں کے ڈنڈا گھمانے سے کرپشن کبھی کی ختم ہو گئی ہوتی-رہی سہی کسر بقیہ 35 سال میں آئینی کرپشن والی ترمیمات کے زریعے سولین حکومتوں پر شب خون مار کر ختم ہو گئی ہوتی-

اگر جنرل ضیاء بندوق کے زور پر اقتدار کے مزے لینے کے لئے آئین و قانون توڑ کر آئینی کرپشن کر سکتا ہے تو ایک پولیس کانسٹیبل بندوق کے زور پر چائے پانی کے مزے لینے کے لئے قانون توڑ کر مالی کرپشن کر سکتا ہے

شکریہ ع خ: آپ نے یہ بات ثابت کر دی کہ پاکستان کا سب سے ببڑا مسئلہ کرپشن نہیں بلکہ نااہلی ہے یعنی انکومپیٹنس- Incompetence سے کرپشن ختم کرنا تو دور کی بات ایسی معاشی بدحالی پیدا ہوتی ہے جو کرپشن بتدریج ختم کرنے والے سسٹم بھی انسٹال کرنے نہیں دیتی

72 سال سب سے زیادہ اُلو بنانے والی ٹرک کی بتی: پاکستان کو ایک ایماندار، ڈنڈا بردار لیڈر چاہیے- وہ چٹکی بجا کر کرپشن ختم کر دیگا

ڈکٹیٹر ضیا: 11 سال کرپشن کا قلع قمع: “ذندہ” بھٹو، MQM، NS، جہادیوں کے گاڈفادر؛ قرضہ معاف، پلاٹ بندر بانٹ، $6Bn کی گنز، ڈرگز سیلاب

گھبرائیے مت: کرپشن کی صفائی 70 سال سے جاری ہے: 35 سال جرنیلوں کی صفائی کے، بقیہ 35 سال 16 وزرائے اعظم کا کرپشن کی پاداش میں صفایا

نیوکلونیلزم کرپشن ٹرک کی بتی: 35 سال جغادری صفائی، بقیہ 35 سال 16 وزرائے اعظم و غداروں کا صفایا، معیشت کی راکٹ پرواز، ملک مضبوط

“ایماندار” طالع آزمائوں نے انسداد کرپشن کے نام پر آئین و قانون کو پامال کر کے پچھلے 70 سال سے پے درپے حکومتیں گرا کر جس طرح ملکی وسائل پر قبضہ کیا ہے کیا وہ اب بھی آپ کی نظروں سے اوجھل ہے؟

کرپشن خاتمہ کو صرف ایک ایماندار، ڈنڈا بردار، مرد آہن چاہیے:
ایوب(10سال)، ضیاء(11سال)، مش(9سال) اور اب عمران خان(صادق امین ایک پیج)ا

It is incompetence of the competent authority, stupid!
کرپشن کا واویلا صرف اپنی نااہلی چھپانے کا ڈھکوسلہ تھا، پکی نوکری والوں کا

“کرپشن کا صفایا” پلاٹینم جوبلی: کرپٹ و غدار سیاستدانوں کی اسیری و مار دھاڑ سے بھرپور، 70 سال سے تواتر و طمطراق سے جاری، ہاؤس فُل

میرے عزیز ہموطنو:
کرپشن 1954، 1958، 1969، 1977، 1999 کی طرح بدستور ہے،…
20yr itch

جج جیسی مقدس گائے کو کرپشن کا الزام لگا کر کوئی بھی درخواست صدر کو بھیج سکتا ہے- مگر دوسری مقدس گائے پر آئینی کرپشن کے الزام کی درخواست کس کو بھیجی جائے گی

ع خ الیکشن سے پہلے: “ملک میں اوپر والا ایماندار ہو تو نیچے سب کرپشن ختم ہو جاتی ہے اور اگر اوپر والا کرپٹ ہو تو نیچے سب کرپشن پھیل جاتی ہے”

کرپشن یومیہ 13Bn (سال میں 4.7Tr) ختم کی مگر خزانہ پھر بھی خالی ہے:
نہ کھاتا ہے نہ لگاتا ہے مگر خدا جانے یہ پیسہ کہاں جاتا ہے!!!!

NRO++
عوام پھر الو بن گئے! کرپشن خاتمہ وہ ٹرک کی بتی ہے جس کے پیچھے حاضر و غائب DoN گاڈفادرز نے پچھلے 70 سال سے عوامی رائے کو فٹبال بنایا ہوا ہے

“کرپشن ختم کرنے” کا چورن بیچ کر پچھلے 70 سال میں آپ کو 17 دفعہ الو بننا پسند آیا؟ 17 میں سے ہر ایک وزیر اعظم کو اپنی مدت ختم کئے بغیر “تبدیلی” پسند آئی؟ کیا آپ کو اب بھی یہ سمجھ نہیں آیا کہ کرپشن سے زیادہ نا اہلی Incompetence سب سے بڑا مسئلہ ہے

اگر آپ کرپشن واقعی ختم کرنا چاہتے ہیں تو تمام گورنمنٹ اداروں کے لینڈ ٹرانسفرز اور دس لاکھ سے زیادہ کے پرچیز آرڈر اوپن ویب سائٹ پر ڈال دیں

کرپشن ختم کرنا بغیر ٹرانسپیرنسی کے ممکن نہیں: تمام پراپرٹیز کی اونرشپ و ٹرانسفر کا انٹرنیٹ پر ریکارڈ 80% مقدمات کو ختم کر دے گا

Edit


Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *