Booby Traps Installed by IMF Reps in Pakistan Economy

ڈاکٹر رضا باقر، SBP گورنر کے IMF کے mandated بوبی ٹریپس جن کو پلاننگ کے زریعے مختلف اوقات میں نسب کیا گیا اور جس وقت وہ اچانک پھٹنے شروع ہوئے تو اکنامک ہٹ مینز خاموش رہ کر نظارہ کرتے رہے, کوئی خطرے کی گھنٹیاں نہیں بجائیں- ان بوبی ٹریپس کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے-  جن کی implications کے بارے میں اکانومک ہٹ مینز نے آسان الفاظ میں کبھی سمجھانے کی کوشش نہیں کی، نہ تو وزیراعظم کو، نہ ان کی معاشی ٹیم کو اور نہ ان پر اثرز انداز ہونے والے انٹیلکچوئلز اور بزنس لابیز کو- ان! traps کے پیچھے آئی ایم ایف کی پٹی پڑھائی ہوئی یہ اسٹیٹ بینک کی آزادی کا مفروضہ ہے، جس کے مطابق فائنانس منسٹری  اور اسٹیٹ بینک دو مطلق العنان آزاد حکومتیں ہیں جن کا آپس میں کوئی لینا دینا نہیں ہے- ماشاءاللہ اس ٹرک کی بتی کے پیچھے اکثر لوگ لگے اندھا دھند تقلید کرتے نظر آئیں گے-
 



1) حکومت کو پابند کیا گیا کہ قرضے صرف کمرشل بینکس سے لئے جاسکتے ہیں- پہلے جو حکومت قرضہ لیتی تھی وہ زیادہ تر sbp سے لیتے تھے- اب حکومت مجبور ہو گئی کہ وہ کمرشل بینکس سے مارکیٹ ریٹ پر قرضہ لے- اور اس کا سود بھی کمرشل بینکس کو جائے- پہلے سود sbp کو جاتا تھا وہ بھی حکومت ہی کے پاس رہتا تھا- ایک ہاتھ سے دےکر دوسرے ہاتھ سے لے لیتی تھی-
 
 2) انٹرسٹ ریٹ بڑھا کر  13٪ کر دیا- یہ تھیوری کہ انٹرسٹ ریٹ بڑھانے سے انفلیشن کم ہوتی ہے بالکل بودا ہے- اکثر ممالک جہاں بینک کے قرضہ جات اور کریڈٹ پر بزنس چلتے ہیں وہاں تو یہ تھیوری سمجھ میں آتی ہے  مگر پاکستان جیسی کیش اکانومی میں یہ بالکل  نہیں چلتا- کئی دفعہ کر کے دیکھ چکے ہیں-  یہ صرف ڈھکوسلہ ثابت ہوا- انفلیشن کم نہیں ہوئی بلکہ مسلسل بڑھتی رہی-
 
 3)  حکومت مجبور ہوئی کہ وہ ہائی ریٹ پر قرضہ لے- بجائے قلیل مدتی قرضوں کو قلیل مدتی ہائی ریٹ والے قرضوں سے رپلیس کرتی، حکومت نے کچھ اکانومک ہٹ مینز کے مشورہ پر ان قلیل مدتی قرضوں کو طویل مدتی ہائی ریٹ قرضوں سے تبدیل کر لیا-
نتیجتاً ہائی انٹرسٹ ریٹ پر  باہر سے دھڑا دھڑ  $ ڈپازٹ آنے لگے اور پاکستانی عقلمند اس کو اکانومی کی صحت مندی سے تعبیر کرنے لگے- یہ کووڈ کا زمانہ تھا جب اکثر ترقیافتہ ممالک اپنا ریٹ نیجے کر رہے تھے پاکستانی ریٹ اوپر جا رہا تھا چنانچہ ڈپازٹ تو آنے تھے- مگر یہ ٹریپ تھا-
 4) جب تک لوگوں کے شور کرنے پر اکنامک ہٹ مینز نے پاکستان کا ریٹ کم کیا اس وقت تک نقصان ہو چکا تھا- فارن  $ ڈپازٹ ہائی ریٹ پر منافع لیکر  غائب ہو چکے تھے، اکانومی کو چونا لگ چکا تھا-
5) مگر پاکستان اپنے طویل مدتی قرضوں کے ہائ انٹرسٹ دینے کے چنگل میں پھنس چکا تھا؛ اب یہ حال ہو گیا کہ ملکی رونیوز کا 90٪ حصہ انٹرسٹ میں جانے لگا- یعنی ملکی امور اور فوجی تنخواہوں کےلئے بھی اب نئے قرضہ جات لینے پڑنے لگے اور فوج کی اور سرکاری ملازمین کی پنشنز کے لالے پڑنے لگے- چنانچہ اسٹیبلشمنٹ کی بے چینی کی وجہ یہ بنی-
 
6) اب آتے ہیں روپے کی مصنوعی قدر vs روپیہ کی قدرتی قدر کی آئی ایم ایف کی تھیوری آف ڈی ولیوشن کی؛ یہ بھی ایک بڑا ڈھکوسلہ ہے کہ امریکی اپنے ڈالر کی مصنوعی قدر پر ہے یا قدرتی قدر پر: امریکہ اپنے $ کو مستحکم رکھنے کیلئے مصنوعی طور پر کیا کچھ نہیں کرتا: جس میں regime change, وزراء اعظم کی تبدیلی سازش، ان کا مصدق جیسا قتل اور مورسی و بھٹو جیسا عدالتی قتل، فوجی بغاوتوں، خانہ جنگی اور اپنے پراکسیز کے زریعے جنگیں شامل ہیں جیسا کہ قزافی، یمن، ایران، وینزویلا وغیرہ شامل ہیں- آج کل روس بھی یوکرین میں اپنے روبل کی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے- مزید آئندہ
خیر اکنامک ہٹ مینز نے حکومت کو یقین دلایا کہ 40-30 روپے قدر گھٹا کر روپیہ قدرتی قدر پر آ جائیگا اور ایکسپورٹ بڑھ جائے گی – ہم اس لارا لپا ہسےکئی دفعہ بیوقوف بن چکے ہیں- خیرایکسپورٹ تو کیا بڑھنی تھیں، الٹی امپورٹس اتنی زیادہ بڑھیں کہ ملک کی صنعتوں کی کمر ٹوٹ گئی، تمام اجناس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گیا اور لوگ مہنگائی سے خودکشیاں کرنے لگے-
اوپر سے ہمیں CAD کا چورن پچھلے چند سالوں سے پانچویں پشت کی دوغلی ابلاغی جنگ کے سورما بیچ رہے تھے- CAD کم کرنے کیلئے امپورٹس کم کر دیں اور مختلف پابندیاں لگا دیں، اس وجہ سے GDP 6.2٪ – 5.8٪ سے گر کر – 0.5٪ ہو گیا ایسا پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا-
جب نقصان ہو گیا تو ہٹ مین رضا باقر نے دبے الفاظ میں قبول لیا کہ CAD زیادہ ہونا گروتھ کی نشانی ہے-
CAD کم > امپورٹس کم > GDP کریش
مزید تفصیل (6) کی ایک اگلی پوسٹ میں آرہی ہے
SBP Independence does not mean subservience to IMF. To understand the IMF’s honky dory perspective of how central banks destroyed economy of both Egypt and Pakistan by Dr Baqir, and strengthened the iron clutches of USA on these countries. To understand how IMF controls thinking of Pakistanis, Egyptians and other countries by spreading their perspectives, read this article by Dr Yaqub, ex governor of sbp. 
https://www.thenews.com.pk/print/956314-autonomy-of-the-state-bank-of-pakistan
 The initial premise of this article that SBP was toothless, dysfunctional sub department of Min of Fin with no independence of regulatory and monetary decisions is valid. There was a need for independence of SBP, however this decision making autonomy of MoF (Fiscal Policy) and SBP (monetary policy) is not like independence and autonomy of two sovereign countries that can let the other one go to hell without a fallout on their joint objective of prosperity of economy. There is no mention of this joint responsibility in this article. There is no mention of ownership and joint worry of the future of economy and how the two work in tandem. 
Macroeconomic stability of the country is the objective. But, if the country is going towards default because of fiscal policies, the responsibility must be shared by both. The governor Dr Raza Baqir who had no stake in the future of country, who never warned openly the PM, had no briefing/training sessions for PM’s  team or intellectuals or influences, no projections were shared, no advice was given, he never warned the government about silencing the critics, and those predicting that country is going towards default.
 He quietly inserted booby traps in the economy without giving a prediction of how current fiscal policies will lead to decline, he quietly let the booby traps spring into action and throttling the economy, he never took the ownership or the worry part, once the country was in dire straits, he quietly picked his briefcase, pocketed his humungus salary and perks, and went abroad never to return back. We must now legislate about Governor sbp’ half salary should now be held in long term escrow deposits of banking investments and they must be asked to keep long term stakes in pakistan.

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *